Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2928 (مشکوۃ المصابیح)
[2928] سندہ ضعیف، رواہ أحمد (7/5ح 20336۔ 20337، 136/4 ح 17359 واللفظ لہ) [و ابن ماجہ:2433] ٭ عبد الملک أبو جعفر مجھول الحال و للحدیث شاھد صحیح عند أحمد (7/5) وغیرہ دون قولہ: ’’و ترک ثلاثمائۃ‘‘ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن سعد بن الأطول قَالَ: مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وَلَدًا صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْہِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِن أخلك مَحْبُوسٌ بِدَيْنِہِ فَاقْضِ عَنْہُ)) . قَالَ: فَذَہَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنہُ وَلم تبْق إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَہَا بَيِّنَةٌ قَالَ: ((أعْطہَا فَإِنَّہَا صَدَقَة)) . رَوَاہُ أَحْمد
سعد بن اطول ؓ بیان کرتے ہیں،میرا بھائی فوت ہو گیا اور اس نے تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے،میں نے ارادہ کیا کہ میں (یہ رقم) ان پر خرچ کروں،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا:’’تیرا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے محبوس ہے،(پہلے) اس کی طرف سے قرض ادا کرو۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں۔میں گیا اور اس کی طرف سے قرض ادا کیا،پھر میں واپس آیا تو عرض کیا،اللہ کے رسول! میں نے اس کی طرف سے سارا قرض ادا کر دیا ہے،صرف ایک عورت باقی رہ گئی ہے جو دو دینار کا مطالبہ کرتی ہے۔جبکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے دے دو کیونکہ وہ سچی ہے۔‘‘ سندہ ضعیف،رواہ احمد۔