Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2930 (مشکوۃ المصابیح)

[2930] رواہ البخاري (2501)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن زہرَة بن معبد: أَنَّہُ كَانَ يَخْرُجُ بِہِ جَدُّہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ ہِشَامٍ إِلَی السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاہُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَہُ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيُشْرِكُہُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا ہِيَ فَيَبْعَثُ بِہَا إِلَی الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ ہِشَامٍ ذَہَبَتْ بِہِ أُمُّہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَمَسَحَ رَأسہ ودعا لَہُ بِالْبركَةِ. رَوَاہُ البُخَارِيّ

زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ؓ انہیں بازار لے جاتے اور غلہ خریدتے،پھر ابن عمر ؓ اور ابن زبیر ؓ انہیں ملتے تو وہ انہیں (عبداللہ بن ہشام ؓ سے) کہتے: ہمیں بھی شریک کر لو،کیونکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے،وہ انہیں شریک کر لیتے،بسا اوقات انہیں پورے اونٹ کے سامان کا نفع ہو جاتا تو وہ اسے اپنے گھر کی طرف بھیج دیتے،اور عبداللہ بن ہشام ؓ کو ان کی والدہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر گئی تھیں تو آپ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا،اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی۔