Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2940 (مشکوۃ المصابیح)

[2940] رواہ البخاري (5225)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيہَا طَعَامٌ فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ ﷺ فِي بَيْتِہَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ ﷺ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيہَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ: ((غَارَتْ أُمُّكُمْ)) ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّی أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي ہُوَ فِي بَيْتُہَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَی الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُہَا وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ. رَوَاہُ البُخَارِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تھے تو آپ کی کسی زوجہ محترمہ نے پلیٹ میں کھانا بھیجا تو جن کے گھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ پر مارا تو وہ پلیٹ گر کر ٹوٹ گئی،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پلیٹ کے ٹکڑے اکٹھے کیے،اور بکھرے ہوئے کھانے کو اٹھایا،ساتھ میں کہنے لگے:’’تمہاری ماں نے غیرت کھائی۔‘‘ پھر آپ نے خادم کو روکا حتی کہ اسے زوجہ محترمہ کے گھر سے،جن کے گھر آپ تشریف فرما تھے،صحیح پلیٹ دی اور وہ ٹوٹی ہوئی پلیٹ اس زوجہ محترمہ کے گھر رکھ دی جنہوں نے توڑی تھی۔رواہ البخاری۔