Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2955 (مشکوۃ المصابیح)

[2955] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (3562) ٭ شریک القاضي عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ . و حدیث الحاکم (47/2) یخالفہ و سندہ حسن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أُميَّة بن صَفْوَان عَنْ أَبِيہِ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اسْتَعَارَ مِنْہُ أَدْرَاعَہُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدَ؟ قَالَ: ((بَلْ عَارِيَةً مَضْمُونَةً)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

امیہ بن صوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے کچھ زریں مستعار لیں تو اس نے کہا: محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم)! غصب کے طور پر لینا چاہتے ہو؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’نہیں،بلکہ قابل واپسی،ادھار کے طور پر۔‘‘ سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔