Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2957 (مشکوۃ المصابیح)

[2957] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1288 وقال: حسن صحیح غریب) و أبو داود (2622) و ابن ماجہ (2299) ٭ فیہ ابن أبی الحکم: لم یوثقہ غیر الترمذي فھو ’’مستور‘‘ کما قال صاحب التقریب . حدیث عمرو بن شعیب یأتي (3036)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن رَافع بن عَمْرو الْغِفَارِيّ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: ((يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟)) قُلْتُ: آكُلُ قَالَ: ((فَلَا تَرْمِ وَكُلْ مِمَّا سَقَطَ فِي أَسْفَلِہَا)) ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((اللہُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَہُ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي ((بَابِ اللّقطَة)) إِن شَاءَ اللہ تَعَالَی

رافع بن عمرو غفاری ؓ بیان کرتے ہیں،میں چھوٹا سا لڑکا تھا اور میں انصار کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر پھینک رہا تھا،تو مجھے (پکڑ کر) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’لڑکے! تم نے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں پھینکے؟‘‘ میں نے عرض کیا،کھجوریں کھانے کے لیے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’پتھر نہ مارو،جو نیچے گری ہوں ان میں سے کھاؤ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دعا کی:’’اے اللہ! اس کے پیٹ کو بھر دے۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔وَسَنَذْکُرُ حَدِیْثَ عَمْرِ وبْنِ شُعَیْبِ فِیْ بَابِ اللُّقْطَۃِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ۔اور عمرو بن شعیب کی حدیث کو ہم انشاءاللہ ’’باب اللقطۃ‘‘ میں ذکر کریں گے۔