Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2974 (مشکوۃ المصابیح)
[2974] متفق علیہ، رواہ البخاري (2346) و مسلم (1547/115)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خديج قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّہُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَی عَہْدِ النَّبِيِّ ﷺ بِمَا يَنْبُتُ عَلَی الْأَرْبَعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيہِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَہَانَا النَّبِيُّ ﷺ عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ ہِيَ بِالدَّرَاہِمِ وَالدَّنَانِيرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِہَا بَأْسٌ وَكَأَنَّ الَّذِي نُہِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيہِ ذَوُو الْفَہْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوہُ لِمَا فِيہِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ
حنظلہ بن قیس،رافع بن خدیج ؓ سے روایت کرتے ہیں،میرے دو چچا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے،لیکن وہ برساتی نالے کے آس پاس اگنے والی کھیتی یا کوئی اور چیز مستثنی کر لیا کرتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا،میں نے رافع ؓ سے کہا: وہ درہم و دینار کے بدلے دینے میں کیا حکم رکھتی ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں،اور جس وجہ سے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر حلال و حرام کے متعلق جاننے والا صاحب فہم و فراست اس کا جائزہ لے تو وہ بھی اس میں موجود دھوکے کے پیش نظر اسے جائز قرار نہ دے۔متفق علیہ۔