Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2995 (مشکوۃ المصابیح)

[2995] متفق علیہ، رواہ البخاري (2369) و مسلم (173 / 108) حدیث جابر تقدم: 2858

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُہُمُ اللہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْہِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَی سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِہَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَہُوَ كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللہُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَاء لم تعْمل يداك (( وَذُكِرَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي)) بَابِ الْمَنْہِيِّ عَنْہَا من الْبيُوع

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تین شخص ایسے ہیں،جن سے اللہ روزِ قیامت کلام کرے گا نہ نظرِ رحمت سے ان کی طرف دیکھے گا: وہ آدمی جس نے مال پر قسم اٹھائی ہو کہ اسے تو اس سے،جتنی تم دے رہے ہو،زیادہ قیمت ملتی ہے،حالانکہ وہ جھوٹا ہے،دوسرا وہ شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہڑپ کر جائے،اور تیسرا وہ شخص جس نے زائد از ضرورت پانی روک رکھا ہو،اللہ فرمائے گا: آج میں تجھے اپنے فضل سے محروم رکھوں گا جیسا کہ تو نے زائد از ضرورت پانی روک لیا تھا۔حالانکہ اسے تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔‘‘ متفق علیہ۔ وَذْکِرَ حَدِیْثُ جَابِر ؓ فِیْ ’’بَابِ الْمَنْھِیِّ عَنْھَا مِنَ الْبُیُوْع‘‘۔ اور جابر ؓ کی روایت باب المنھی عنھا من البیوع میں ذکر کی جا چکی ہے۔