Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3004 (مشکوۃ المصابیح)
[3004] ضعیف، رواہ البغوي في شرح السنۃ (271/8 بعد ح 2189) [والشافعي فی الأم 45/4، 50 وسندہ مرسل أي ضعیف لإرسالہ] ٭ و لہ شاھد ضعیف عند الطبراني فی المعجم الکبیر، فیہ عبد الرحمٰن بن سلام عن سفیان عن یحیی بن جعدۃ عن ھبیرۃ بن یریم عن ابن مسعود، و شاھد آخر ضعیف عند الخطیب (188/4)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَرُوِيَ فِي ((شَرْحِ السُّنَّةِ)): أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَقْطَعَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ الدُّورَ بِالْمَدِينَةِ وَہِيَ بَيْنَ ظَہْرَانَيْ عِمَارَةِ الْأَنْصَارِ مِنَ الْمَنَازِلِ وَالنَّخْلِ فَقَالَ بَنُو عَبْدِ بن زہرَة: نكتب عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہ: ((فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللہُ إِذًا؟ إِنَّ اللہَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيہِمْ حَقُّہُ))
شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو مدینہ میں کچھ گھر بطور جاگیر عطا کیے،وہ انصار کے گھروں اور نخلستان کے درمیان تھے،بنوعبد بن زہرہ نے کہا: ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کو ہم سے دور کر دیں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا:’’تب اللہ نے مجھے مبعوث ہی کیوں کیا ہے،بے شک اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں ان کے ضعیف شخص کو اس کا حق نہ دلایا جائے۔‘‘ ضعیف،رواہ فی شرح السنہ۔