Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3006 (مشکوۃ المصابیح)
[3006] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (3636) ٭ قال ابن الترکماني: ’’ذکر ابن حزم أنہ منقطع لأن محمد بن علي لا سماع لہ من سمرۃ‘‘ (الجوھر النقي 157/6) حدیث جابر تقدم (1916) و حدیث سعید بن زید تقدم (2944) و حدیث أبي صرمۃ یأتي (5042)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّہُ كَانَتْ لَہُ عضد من نخل فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَ الرَّجُلِ أَہْلُہُ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ عَلَيْہِ فَيَتَأَذَّی بِہِ فَأتی النَّبِي صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم فذكرذلك لَہُ فَطَلَبَ إِلَيْہِ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم ليَبِيعہُ فَأبی فَطلب أَن يناقلہ فَأَبَی قَالَ: ((فَہَبْہُ لَہُ وَلَكَ كَذَا)) أَمْرًا رَغْبَةً فِيہِ فَأَبَی فَقَالَ: ((أَنْتَ مُضَارٌّ)) فَقَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ: ((اذْہَبْ فَاقْطَعْ نَخْلَہُ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَذكر حَدِيث جَابر: ((من أحيي أَرضًا)) فِي ((بَاب الْغَصْب)) بِرِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي صِرْمَةَ: ((مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللہُ بِہِ)) فِي ((بَاب مَا يُنْہِي من التہاجر))
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ ان کے کھجوروں کے کچھ درخت ایک انصاری شخص کے باغ میں تھے،اور اس کے بچے بھی اس شخص کے ساتھ (باغ میں) تھے،سمرہ ؓ جب اس شخص کے پاس جاتے تو وہ ان سے تکلیف محسوس کرتا،وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ساری بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمرہ ؓ کو اپنے پاس بلایا تاکہ وہ اسے فروخت کر دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا،آپ نے مطالبہ کیا کہ ان درختوں کے بدلہ میں کسی اور جگہ لے لو،لیکن انہوں نے انکار کر دیا،فرمایا:’’اسے ہبہ کر دو۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترغیب کے انداز میں فرمایا کہ:’’تمہیں (جنت میں) یہ کچھ ملے گا۔‘‘ انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم تکلیف پہنچانے والے ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری شخص سے فرمایا:’’جاؤ اور اس کے کھجوروں کے درخت کاٹ دو۔‘‘ اور جابر سے مروی حدیث:’’جس نے بنجر زمین کو آباد کیا۔‘‘ سعید بن زید ؓ کی روایت سے ’’باب الغصب‘‘ میں ذکر کی گئی ہے۔اور ہم ابوصرمہ ؓ سے مروی حدیث:’’جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ اسے تکلیف پہنچائے گا۔‘‘ ’’باب ما ینھی عن التھاجر‘‘ میں ذکر کریں گے۔اسنادہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔