Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3007 (مشکوۃ المصابیح)
[3007] إسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ (2474) ٭ علي بن زید بن جدعان: ضعیف و زھیر بن مرزوق: مجھول، و علي بن غراب: مدلس، وللحدیث شاھدان ضعیفان .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن عَائِشَة أَنَّہَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ((الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّار)) قَالَت: قلت: يَا رَسُول اللہ ہَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاہُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: ((يَا حميراء أَمن أَعْطَی نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَی مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَتْ تِلْكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَی مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَی مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاہَا)) . رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’پانی،نمک اور آگ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں،میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی اہمیت و ضرورت کا تو ہمیں پتہ ہے،لیکن نمک اور آگ کی تو وہ صورت نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’حمیراء! جس شخص نے آگ دی تو گویا اس نے اس آگ سے پکنے والی تمام چیزیں،صدقہ کیں۔اور جس نے نمک دیا تو گویا اس نمک نے جن چیزوں کو لذیذ بنایا وہ تمام چیزیں اس نے صدقہ کیں۔جس شخص نے پانی کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی پلایا تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا،اور جس نے پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں کسی مسلمان کو پانی کا گھونٹ پلا دیا تو گویا اس نے اسے زندگی عطا کر دی۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ ابن ماجہ۔