Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3008 (مشکوۃ المصابیح)
[3008] متفق علیہ، رواہ البخاري (2737) و مسلم (1632/15)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْہُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِہِ؟ قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا)) . فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ: إِنَّہُ لَا يُبَاعُ أَصْلُہَا وَلَا يُوہب وَلَا يُورث وَتصدق بہَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَی وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِيَہَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْہَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: غير متأثل مَالا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ خیبر کی کچھ زمین عمر ؓ کے حصے میں آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر کی جو زمین ملی ہے اس سے پہلے اتنا نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا،آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تم چاہو تو اس کا اصل مال تم رکھ لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔‘‘ عمر ؓ نے اس شرط پر اسے صدقہ کیا کہ اس کے اصل کو بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی وراثت میں تقسیم ہو گا اور اس کی پیداوار کو فقراء،رشتہ داروں،غلاموں کو آزاد کرانے،اللہ کی راہ میں،مسافر پر اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا،اور اس کی سرپرستی و نگرانی کرنے والے پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اس میں سے بھلے طریقے سے کھائے ذخیرہ نہ کرتے ہوئے دوسروں (اہل خانہ وغیرہ) کو بھی کھلائے۔‘‘ ابن سرین ؒ نے فرمایا: مال جمع کرنے والا نہ ہو۔متفق علیہ۔