Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3021 (مشکوۃ المصابیح)
[3021] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (3539) و الترمذي (2132) والنسائي (265/6 ح 3720) و ابن ماجہ (2277)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: ((لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيہَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَہُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيہَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّی إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِہِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَصَححہُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ عطیہ دے کر واپس لے،مگر والد جو اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے،اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہتا ہے،حتی کہ شکم سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے،پھر اسے کھانے لگتا ہے۔‘‘ ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ۔اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ۔