Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3022 (مشکوۃ المصابیح)

[3022] حسن، رواہ الترمذي (3945 وقال: حسن صحیح، وسندہ حسن و للفظ لہ) و أبو داود (3537) والنسائي (280/6 ح 3790)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أُہْدِيَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ بَكْرَةً فَعَوَّضَہُ مِنْہَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَحَمِدَ اللہَ وَأَثْنَی عَلَيْہِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ فَلَانًا أَہْدَی إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُہُ مِنْہَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ ہَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دوسي)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ایک نو عمر اونٹ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس کے عوض اسے چھ نو عمر اونٹنیاں دیں،لیکن وہ راضی نہ ہوا۔جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا پتہ چلا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی،پھر فرمایا:’’فلاں شخص نے مجھے ایک اونٹ بطور ہدیہ پیش کیا تو میں نے اس کے عوض اسے چھ اونٹنیاں دیں لیکن وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا۔اب میں نے عزم کر لیا ہے کہ میں صرف کسی قریشی،انصاری،ثقفی یا دوسی شخص کا ہدیہ ہی قبول کروں گا۔‘‘ حسن،رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی۔