Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3031 (مشکوۃ المصابیح)
[3031] رواہ مسلم (1624/19)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْہِدْ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَہَا غُلَامِي وَقَالَتْ: أَشْہِدْ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ: ((أَلَہُ إِخْوَةٌ؟)) قَالَ: نَعَمْ قَالَ: ((أَفَكُلَّہُمْ أَعْطَيْتَہُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَہُ؟)) قَالَ: لَا قَالَ: ((فَلَيْسَ يَصْلُحُ ہَذَا وَإِنِّي لَا أَشْہَدُ إِلَّا علی حق)) . رَوَاہُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں،بشیر ؓ کی اہلیہ نے کہا: میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤ۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو عرض کیا: فلاں کی بیٹی (یعنی میری اہلیہ) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کروں اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناؤں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس کے اور بھی بھائی ہیں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے جو اس لڑکے کو دیا ہے وہ ان سب کو بھی دیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ تو مناسب نہیں،اور میں تو صرف حق بات پر ہی گواہی دیتا ہوں۔‘‘ رواہ مسلم۔