Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3041 (مشکوۃ المصابیح)
[3041] متفق علیہ، رواہ البخاري (6763) و مسلم (1619/17)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((أَنَا أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْہِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُہُ. وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ)) . وَفِي رِوَايَة: ((من ترك دينا أَو ضيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاہُ)) . وَفِي رِوَايَةٍ: ((مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا))
ابوہریرہ ؓ،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں مومنوں کا ان کے نفسوں سے بھی زیادہ حقدار ہوں،جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو اور اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز بھی نہ چھوڑی ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے:’’جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا حامی و مددگار ہوں۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے:’’جس نے مال چھوڑا تو اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو شخص بوجھ (یعنی قرض یا اولاد) چھوڑ جائے تو وہ ہماری طرف آئیں۔‘‘ متفق علیہ۔