Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3052 (مشکوۃ المصابیح)

[3052] حسن، رواہ أبو داود (2899۔ 2900)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن الْمِقْدَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَنَا أَوْلَی بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيْنَا وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ وَأَنَا مَوْلَی مَنْ لَا مَوْلَی لَہُ أَرِثُ مَالَہُ وَأَفُكُّ عَانَہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ يَرِثُ مَالَہُ وَيَفُكُّ عَانَہُ)) . وَفِي رِوَايَةٍ: ((وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ أَعْقِلُ عَنْہُ وَأَرِثُہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ يَعْقِلُ عَنْہُ ويرثہ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

مقدام ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں ہر مومن سے خود اس سے بھی زیادہ تعلق رکھتا ہوں،جو شخص قرض یا پسماندگان چھوڑ جائے تو ان کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے،اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔اور جس کا کوئی مولیٰ (حمایتی و مددگار) نہ ہو۔اس کا میں مولیٰ ہوں،اس کے مال کا میں وارث بنوں گا،اس کے قیدی کو میں چھڑاؤں گا،جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے،وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدی کو چھڑائے گا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے:’’جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا میں وارث ہوں،اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کا وارث بھی بنوں گا،اور جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا ماموں وارث ہے،وہ اس کی طرف سے دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا۔‘‘ حسن،رواہ ابوداؤد۔