Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3057 (مشکوۃ المصابیح)
[3057] ضعیف، رواہ الترمذي (2094) و ابن ماجہ (2739) و الدارمي (368/2 ح 2988) ٭ الحارث الأعور ضعیف و لمفھوم الحدیث شاھد حسن عند ابن ماجہ (2433) و ھو یغني عنہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: إِنَّكُمْ تقرؤون ہَذِہِ الْآيَةَ: (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِہَا أَو دين) وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَضَی بِالدّينِ قبل الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاہُ لِأَبِيہِ وَأُمِّہِ دُونَ أَخِيہِ لِأَبِيہِ . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ: قَالَ: ((الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .)) إِلَی آخِرہ
علی ؓ بیان کرتے ہیں،تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو:’’وصیت پوری کرنے کے بعد جو تم وصیت کرتے ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد۔‘‘ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض کو وصیت سے پہلے ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا،اور سگے بھائی وارث ہوتے ہیں،سوتیلے بھائی وارث نہیں ہوتے،آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا سوتیلے بھائی کا وارث نہیں ہو گا۔‘‘ ترمذی،ابن ماجہ۔اور دارمی کی روایت میں ہے،فرمایا:’’سگے بھائی (ایک ہی ماں کی اولاد) وارث ہوں گے اور مختلف ماؤں کی اولاد (یعنی سوتیلے بھائی) وارث نہیں ہوں گے۔‘‘ ضعیف،رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی۔