Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3058 (مشکوۃ المصابیح)

[3058] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (352/3 ح 14858) و الترمذي (2092) و أبو داود (2891۔ 2892) و ابن ماجہ (2720) ٭ عبد اللہ بن محمد بن عقیل: ضعیف مشھور، ضعفہ الجمھور .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْہَا مِنْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ ہَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوہُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَہِيدًا وَإِنَّ عَمَّہُمَا أَخَذَ مَالَہُمَا وَلَمْ يَدَعْ لَہُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَہُمَا مَالٌ قَالَ: ((يَقْضِي اللہُ فِي ذَلِكَ)) فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی عَمِّہِمَا فَقَالَ: ((أَعْطِ لِابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّہُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَہُوَ لَكَ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں،سعد بن ربیع ؓ کی اہلیہ سعد بن ربیع سے اپنی دونوں بیٹیاں لے کر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئی تو عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد بن ربیع ؓ کی بیٹیاں ہیں،ان کا والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شریک ہو کر شہید ہو گیا۔ان دونوں کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا،اگر مال ہو گا تو ان کی شادی ہو جائے گی،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا۔‘‘ پس آیتِ میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد ؓ کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان دونوں کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو،اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے۔‘‘ احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔