Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3059 (مشکوۃ المصابیح)

[3059] رواہ البخاري (6736)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ ہُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَی عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: للْبِنْت النّصْف وَللْأُخْت النّصْف وائت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بقول أبي مُوسَی فَقَالَ: لقد ضللت إِذن وَمَا أَنَا مِنَ الْمُہْتَدِينَ أَقْضِي فِيہَا بِمَا قَضَی النَّبِيُّ ﷺ: ((لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ)) فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَی فَأَخْبَرْنَاہُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ ہَذَا الحبر فِيكُم. رَوَاہُ البُخَارِيّ

ہُذیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں،ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بیٹی،پوتی اور بہن کے حصے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: بیٹی کے لیے نصف،بہن کے لیے نصف،اور تم ابن مسعود ؓ کے پاس جاؤ وہ بھی میرے موافق فتویٰ دیں گے،عبداللہ بن مسعود ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ابوموسی ؓ نے یہ فتوی دیا ہے،تو انہوں نے فرمایا: تب تو میں گمراہ ہو گیا،اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں ہوں،میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا،بیٹی کے لیے نصف،پوتی کے لیے چھٹا حصہ اسی طرح دو تہائی مکمل ہوا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے،ہم ابوموسی ؓ کے پاس آئے تو انہیں ابن مسعود ؓ کے فتویٰ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: جب تک یہ علاّمہ تم میں موجود ہے مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو۔رواہ البخاری۔