Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3071 (مشکوۃ المصابیح)

[3071] متفق علیہ، رواہ البخاري (2742) و مسلم (1628/5)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَی الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللہِ ﷺ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ: إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّہِ؟ قَالَ: ((لَا)) قُلْتُ: فَثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: ((لَا)) قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟ قَالَ: ((لَا)) قُلْتُ: فَالثُّلُثِ؟ قَالَ: ((الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَذَرْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَہُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِہَا وَجْہَ اللہِ إِلَّا أُجِرْتَ بِہَا حَتَّی اللُّقْمَةَ تَرْفَعُہَا إِلَی فِي امْرَأَتِكَ))

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں،فتح مکہ کے سال میں شدید بیمار ہو گیا حتی کہ میں موت کے کنارے پہنچ گیا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میرے پاس مال بہت زیادہ ہے۔اور میری صرف ایک بیٹی اس کی وارث ہے،کیا میں اپنے سارے مال کے متعلق وصیت کر دوں؟ فرمایا:’’نہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا،اپنے مال کا دو تہائی؟ فرمایا:’’نہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا: نصف؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’نہیں۔‘‘ میں عرض کیا،تہائی؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تہائی،جبکہ تہائی بھی زیادہ ہے،اگر تم اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ تنگ دست ہوں اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔اور تم اللہ کی رضا کے لیے جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا،حتی کہ وہ لقمہ جو تم اپنی اہلیہ کے منہ تک پہنچاتے ہو۔‘‘ متفق علیہ۔