Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3072 (مشکوۃ المصابیح)

[3072] صحیح، رواہ الترمذي (975 و قال: حسن صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: عَادَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ: ((أَوْصَيْتَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: ((بِكَمْ؟)) قُلْتُ: بِمَالِي كُلِّہِ فِي سَبِيلِ اللہِ. قَالَ: ((فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟)) قُلْتُ: ہُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ: ((أوص بالعشر)) فَمَا زَالَت أُنَاقِصُہُ حَتَّی قَالَ: ((أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں،میں مریض تھا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری عیادت کی،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم نے وصیت کی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کتنے مال کی؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم نے اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: وہ کافی مال دار ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’دسویں حصے کی وصیت کر۔‘‘ میں اصرار کرتا رہا،حتی کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا:’’تہائی کی وصیت کر،جبکہ تہائی بھی زیادہ ہے۔‘‘ صحیح،رواہ الترمذی۔