Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3075 (مشکوۃ المصابیح)
[3075] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (278/2 ح 7728) والترمذي (2117 وقال: حسن غریب) و أبو داود (2867) و ابن ماجہ (2704)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللہِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُہُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَہُمَا النَّارُ)) ثُمَّ قَرَأَ أَبُو ہُرَيْرَةَ (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَی بِہَا أَوْ دَيْنٍ غير مضار) إِلَی قَوْلہ (وَذَلِكَ الْفَوْز الْعَظِيم) رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک آدمی اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت میں نیک عمل کرتے رہتے ہیں،پھر انہیں موت آتی ہے تو وہ وصیت میں کسی کو نقصان پہنچا جاتے ہیں،تو ان دونوں کے لیے جہنم کی آگ واجب ہو جاتی ہے۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:’’وراثت کی تقسیم وصیت کے نفاذ اور قرض کی ادائیگی کے بعد ہے اور وہ وصیت نقصان پہنچانے والی نہ ہو .... اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔