Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3121 (مشکوۃ المصابیح)

[3121] متفق علیہ، رواہ البخاري (4324) و مسلم (2180)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ عِنْدَہَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ: لِعَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللہِ إِنْ فَتَحَ اللہُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَی ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّہَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((لَا يدخلن ہَؤُلَاءِ عَلَيْكُم))

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا،اس نے ام سلمہ ؓ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ ؓ سے کہا: عبداللہ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں۔اس پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔‘‘ متفق علیہ۔