Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3127 (مشکوۃ المصابیح)

[3127] رواہ مسلم (1421/66)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: ((الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِيِّہَا وَالْبِكْرُ تَسْتَأْذِنُ فِي نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صِمَاتُہَا)) . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ((الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِيِّہَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُہَا سُكُوتُہَا)) . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ((الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِيِّہَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُہَا أَبُوہَا فِي نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صِمَاتُہَا)) . رَوَاہُ مُسلم

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے۔جبکہ کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت طلب کی جائے گی،اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔‘‘ ایک روایت میں ہے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے جبکہ کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے،جبکہ کنواری کے متعلق اس کا والد اس سے اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔‘‘ رواہ مسلم۔