Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3155 (مشکوۃ المصابیح)

[3155] سندہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ (1900) ٭ أبو الزبیر عنعن و أصل الحدیث عند البخاري في صحیحہ (5162)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أنكحت عَائِشَة ذَات قَرَابَةٍ لَہَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ: ((أَہَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟)) قَالُوا: نعم قَالَ: ((أرسلتم مَعہَا من تغني؟)) قَالَتْ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيہِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَہَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فحيانا وحياكم . رَوَاہُ ابْن مَاجَہ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،عائشہ ؓ نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کی شادی کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا:’’کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے اشعار پڑھنے والوں کو اس کے ساتھ بھیجا ہے؟‘‘ عائشہ ؓ نے عرض کیا: نہیں،تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’انصار ایسے لوگ ہیں جو گانے کا رجحان رکھتے ہیں،اگر تم اس کے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجتی جو کہتا: اَتَیْنا کُمْ اَتَیْنَا کُمْ فَحَیَّانَا وَ حَیَّاکُمْ ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے ہمیں بھی مبارک ہو اور تمہیں بھی مبارک ہو‘‘ سندہ ضعیف،رواہ ابن ماجہ۔