Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3162 (مشکوۃ المصابیح)

[3162] متفق علیہ، رواہ البخاري (5239) و مسلم (1445/7)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ حَتَّی أَسْأَلَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: ((أَنَّہُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَہُ)) قَالَت: فَقلت: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يرضعني الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّہ عمك فليلج عَلَيْك)) وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضرب علينا الْحجاب

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،میرے رضاعی چچا آئے،انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کر لوں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے،میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے لہذا اسے اجازت دے دو۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں،میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے،مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے۔لہذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔‘‘ اور یہ ہم پر پردہ کے احکام نازل ہونے سے بعد کا واقعہ ہے۔متفق علیہ۔