Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3171 (مشکوۃ المصابیح)

[3171] إسنادہ صحیح، رواہ الترمذي (1126 وقال: حسن صحیح) و أبو داود (2065) و الدارمي (136/2 ح2184) و النسائي (98/6 ح 3298 مختصرًا و عندہ: ’’بنت أخیھا‘‘ / مذکر)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَی عَمَّتِہَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَی بِنْتِ أَخِيہَا وَالْمَرْأَةُ عَلَی خَالَتِہَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَی بِنْتِ أُخْتِہَا لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَی عَلَی الْكُبْرَی وَلَا الْكُبْرَی عَلَی الصُّغْرَی. رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي وَالنَّسَائِيّ وَرِوَايَتہ إِلَی قَوْلہ: بنت أُخْتہَا

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کیا جائے جس کی پھوپھی اس کے نکاح میں پہلے سے ہو یا پھوپھی سے اس کی بھتیجی کے ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے،اسی طرح خالہ اور بھانجی کو یا بھانجی اور خالہ کو ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں جمع نہ کیا جائے نیز (رشتے میں) چھوٹی (مثلاً: بھتیجی،بھانجی) کا بڑی پر اور اور بڑی کا چھوٹی پر نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ترمذی،ابوداؤد،دارمی،نسائی۔اور ان کی روایت ((بنت اختھا)) تک ہے۔اسنادہ صحیح،رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و النسائی۔