Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3199 (مشکوۃ المصابیح)
[3199] رواہ البخاري (5283)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عبدا أسود يُقَالُ لَہُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْہِ يَطُوفُ خلفہَا فِي سِكَك الْمَدِينَة يبكي وَدُمُوعُہُ تَسِيلُ عَلَی لِحْيَتِہِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَیَ اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: ((يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ؟ وَمِنْ بُغْضٍ بَرِيرَة مغيثاً؟)) فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((لَوْ راجعتہ)) فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: ((إِنَّمَا أَشْفَعُ)) قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيہِ. رَوَاہُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،بریرہ ؓ کے خاوند سیاہ فام غلام تھے انہیں مغیث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا،اب بھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اسے مدینہ کی گلیوں میں اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے چکر کاٹتا دیکھ رہا ہوں،اس کے آنسو اس کی داڑھی پر رواں ہیں،(یہ صورتحال دیکھ کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عباس ؓ سے فرمایا:’’عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا؟‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بریرہ سے) فرمایا:’’اگر تم اس کے نکاح میں رہنے کا دوبارہ فیصلہ کر لو؟‘‘ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں تو محض سفارش کرتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا: مجھے اس میں کوئی رغبت نہیں۔رواہ البخاری۔