Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3204 (مشکوۃ المصابیح)
[3204] حسن، رواہ أحمد (40/1۔ 41 ح 285) و الترمذي (1114 ب و قال: حسن صحیح) و أبو داود (2106) والنسائي (117/6۔ 118 ح 3351) و ابن ماجہ (1887) و الدارمي (141/2 ح 2206)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا صَدُقَةَ النِّسَاءِ فَإِنَّہَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا وَتَقْوَی عِنْدَ اللہِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِہَا نَبِيُّ اللہِ ﷺ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِہِ وَلَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِہِ عَلَی أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً. رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں،سن لو! عورتوں کا حق مہر زیادہ مقرر نہ کرو،کیونکہ وہ دنیا میں قابل عزت اور اللہ کے ہاں باعثِ تقوی ہوتا تو تمہاری نسبت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے زیادہ حق دار تھے،میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازواج مطہرات ؓ سے نکاح کیا ہو یا اپنی بیٹیوں کا نکاح کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارہ اوقیہ سے زیادہ حق مہر مقرر کیا ہو۔حسن،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔