Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3207 (مشکوۃ المصابیح)
[3207] صحیح، رواہ الترمذي (1145 و قال: حسن صحیح) و أبو داود (2114۔ 2115) و النسائي (122/6 ح3358) والدارمي (155/2 ح 2252)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَہَا شَيْئا وَلم يدْخل بہَا حَتَّی مَاتَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَہَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِہَا. لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْہَا الْعِدَّةُ وَلَہَا الْمِيرَاثُ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: قَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشَقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ. فَفَرِحَ بِہَا ابْنُ مَسْعُودٍ. رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
علقمہ،ابن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس نے اس کا حق مہر مقرر نہیں کیا اور نہ اس سے جماع کیا حتی کہ وہ فوت ہو گیا،تو ابن مسعود ؓ نے فرمایا: اس عورت کو اس کے خاندان کی عورتوں کی مثل حق مہر ملے گا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی،وہ عدت گزارے گی اور میراث حاصل کرے گی۔(یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی کھڑے ہوئے اور کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے خاندان کی بروع بنت واشق نامی ایک عورت کے متعلق اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا جیسے آپ نے فیصلہ فرمایا،تو اس پر ابن مسعود ؓ خوش ہوئے۔صحیح،رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی۔