Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3219 (مشکوۃ المصابیح)

[3219] متفق علیہ، رواہ البخاري (5461) و مسلم (2036/138)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَی أَبَا شُعَيْبٍ كَانَ لَہُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ ﷺ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَصَنَعَ لَہُ طعيما ثمَّ أتہا فَدَعَاہُ فَتَبِعَہُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَہُ وَإِنْ شِئْتَ تركتہ)) . قَالَ: لَا بل أَذِنت لَہُ

ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں،انصار کا ایک آدمی تھا جس کی کنیت ابوشعیب تھی،اس کا ایک غلام قصاب تھا،اس نے کہا: میرے لیے کھانا تیار کرو جو کہ پانچ افراد کے لیے کافی ہو،تاکہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دوں کہ آپ ان میں سے پانچویں ہوں،اس نے اس کے لیے مختصر سا کھانا تیار کیا،پھر وہ (ابوشعیب) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو دعوت دی،تو ایک اور (چھٹا) آدمی ان کے ساتھ آنے لگا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ابوشعیب! ایک اور آدمی ہمارے ساتھ آ رہا ہے،اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو۔‘‘ اس نے عرض کیا: کوئی نہیں! اسے بھی اجازت ہے۔متفق علیہ۔