Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3221 (مشکوۃ المصابیح)

[3221] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (220/5۔ 221 ح 22267، 22271) و ابن ماجہ (3360)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ سَفِينَةَ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْہُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْہِ عَلَی عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَی الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتُہُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: ((إِنَّہُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتا مزوقا)) . رَوَاہُ أَحْمد وَابْن مَاجَہ

سفینہ (ام سلمہ ؓ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ ایک آدمی علی بن ابی طالب ؓ کے ہاں مہمان ٹھہرا تو انہوں نے اس کے لیے کھانا تیار کیا،فاطمہ ؓ نے فرمایا: اگر ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی مدعو کر لیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ تناول فرما لیں؟ انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی تو آپ تشریف لائے اور آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھے تھے کہ گھر کی ایک جانب لگے ہوئے منقش پردے کو دیکھا تو آپ واپس تشریف لے گئے۔فاطمہ ؓ بیان کرتی ہیں،میں آپ کے پیچھے گئی اور عرض کیا،اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو واپس کر دیا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میرے یا کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی مزین گھر میں داخل ہو۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد و ابن ماجہ۔