Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3237 (مشکوۃ المصابیح)
[3237] متفق علیہ، رواہ البخاري (5067) و مسلم (1465/51) و رزین (لم أجدہ) ٭ لقولہ سودۃ: انظر صحیح مسلم (47۔ 48 / 1463) وغیرہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: ہَذِہِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہَا فَلَا تُزَعْزِعُوہَا وَلَا تُزَلْزِلُوہَا وَارْفُقُوا بِہَا فَإِنَّہُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْہُنَّ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا يَقْسِمُ لَہَا بَلَغَنَا أَنَّہَا صَفِيَّةُ وَكَانَتْ آخِرہنَّ موتا مَاتَت بِالْمَدِينَةِ وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: ہِيَ سَوْدَةُ وَہُوَ أصح وہبت يَوْمہَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللہِ ﷺ طَلَاقَہَا فَقَالَتْ لَہُ: أَمْسِكْنِي قَدْ وہبت يومي لعَائِشَة لعَلي أكون من نِسَائِك فِي الْجنَّة
عطاء ؓ بیان کرتے ہیں،ہم مقام سرف پر ابن عباس ؓ کے ساتھ میمونہ ؓ کے جنازے میں شریک تھے،تو انہوں نے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں،انہیں جھٹکے سے نہیں اٹھانا اور نہ چلتے وقت جھٹکے دینا اور بلکہ اسے آرام سے لے کر چلنا،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں،آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہیں فرماتے تھے،عطاء بیان کرتے ہیں،ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس زوجہ محترمہ کے لیے باری مقرر نہیں فرمایا کرتے تھے وہ صفیہ ؓ تھیں،اور انہوں نے ان میں سے سب سے آخر میں مدینہ میں وفات پائی۔متفق علیہ۔رزین نے فرمایا: عطاء کے علاوہ دیگر محدثین نے فرمایا: وہ (جن کی باری مقرر نہیں تھی) سودہ ؓ تھیں،اور یہی بات زیادہ صحیح ہے،کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی تھی،اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی،تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے ہوں۔