Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3320 (مشکوۃ المصابیح)
[3320] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2274)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ فَلَانًا ابْنِي عَاہَرْتُ بِأُمِّہِ فِي الْجَاہِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَا دِعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ذَہَبَ أَمْرُ الْجَاہِلِيَّةِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں،کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا،اللہ کے رسول! فلاں میرا بیٹا ہے،میں نے دور جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسلام میں (بچے کا) دعوی نہیں،جاہلیت کا معاملہ ختم ہو گیا،بچہ صاحبِ بستر کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر (رجم یا محرومی) ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔