Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3325 (مشکوۃ المصابیح)

[3325] رواہ البخاري (5325)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عائشةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحِشٍ فَخِيفَ عَلَی نَاحِيَتِہَا فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَہَا النَّبِيُّ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم تَعْنِي النُّقْلَةِ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: مَا لِفَاطِمَةَ؟ أَلَا تَتَّقِي اللہَ؟ تَعْنِي فِي قَوْلِہَا: لَا سُكْنَی وَلَا نَفَقَة. رَوَاہُ البُخَارِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ ایک بے آباد گھر میں تھیں،ان کے متعلق اندیشہ محسوس کیا گیا اسی لیے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں رخصت عنایت فرمائی،یعنی عائشہ ؓ کی مراد یہ ہے کہ اس لیے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں (اپنے گھر سے) منتقل ہونے کی اجازت دی۔اور ایک دوسری روایت میں ہے،عائشہ ؓ نے کہا: فاطمہ ؓ کو کیا ہو گیا وہ اللہ سے کیوں نہیں ڈرتی،جب وہ یہ کہتی ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کے لیے،سکونت ہے اور نہ خرچہ۔رواہ البخاری۔