Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3324 (مشکوۃ المصابیح)
[3324] رواہ مسلم (1480/36)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّةَ وَہُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْہَا وَكِيْلُہُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ: وَاللہِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ: ((لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ)) فَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: ((تِلْكِ امْرَأَةٌ يَغْشَاہَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي)) . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَہُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ: ((أَمَّا أَبُو الْجَہْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتِقِہِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَہُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ)) فَكَرِہْتُہُ ثُمَّ قَالَ: ((انْكِحِي أُسَامَةَ)) فَنَكَحْتُہُ فَجَعَلَ اللہُ فِيہِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْہَا: ((فَأَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ)) . رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: ((لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلا))
ابوسلمہ،فاطمہ بنت قیس سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص نے انہیں آخری طلاق اس وقت دی جب وہ مدینہ منورہ سے باہر تھے،چنانچہ ابوعمرو بن حفص کے وکیل نے وہ ’’جو‘‘ فاطمہ کے سپرد کر دیے جو ابوعمرو نے ان کے لیے بھیجے تھے وہ اس سے ناراض ہو گئیں،اس پر (اس کے وکیل) نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں،چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم فرمایا،پھر فرمایا:’’وہ ایسی خاتون ہیں،کہ میرے صحابہ اس کے پاس آتے جاتے ہیں،لہذا تم ابن ام مکتوم ؓ کے ہاں عدت گزارو،کیونکہ وہ نابینا شخص ہے،تم اپنے معمول کے کپڑے پہن کر رہ سکتی ہو،جب تم عدت گزار لو تو مجھے مطلع کرنا۔‘‘ فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں: جب میں نے عدت گزار لی تو میں نے آپ کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ اور ابوجہم ؓ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ابوجہم وہ تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا (سخت مزاج ہے)،اور رہا معاویہ وہ تو فقیر آدمی ہے،اس کے پاس کوئی مال نہیں،تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔‘‘ میں نے اسے ناپسند کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسامہ سے نکاح کر لو۔‘‘ میں نے اس سے نکاح کر لیا اللہ نے اس میں خیر فرما دی،اور میں قابل رشک بن گئی۔اور انہی سے ایک روایت میں ہے:’’ابوجہم! وہ تو عورتوں کو بہت مارنے والا ہے۔‘‘ رواہ مسلم۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے خاوند نے جب اسے تین طلاقیں دے دیں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا:’’تمہارے لیے صرف حاملہ ہونے کی صورت میں نفقہ ہے،ویسے کوئی نفقہ نہیں۔‘‘