Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3329 (مشکوۃ المصابیح)

[3329] متفق علیہ، رواہ البخاري (5336) و مسلم (1488)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أُمِّ سلمةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُہَا أَفَنَكْحُلُہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَا)) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: ((لَا)) قَالَ: ((إِنَّمَا ہِيَ أَرْبَعَةُ أَشْہُرٍ وعشرٌ وَقد كَانَت إِحْدَاہُنَّ فِي الجاہليَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ))

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،ایک عورت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے،اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے،کیا میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا دوں؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’نہیں۔‘‘ دو بار یا تین بار،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر بار یہی فرماتے:’’نہیں۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’وہ (عدت) چار ماہ دس دن ہے،جبکہ دور جاہلیت میں تم میں سے ہر کوئی سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔‘‘ (ایک سال بعد عدت ختم ہوتی تھی) متفق علیہ۔