Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3332 (مشکوۃ المصابیح)

[3332] إسنادہ صحیح، رواہ مالک (591/2 ح 1290) والترمذي (1204 وقال: حسن صحیح) و أبو داود (2300) والنسائي (199/6۔ 200 ح 3558۔ 3560) و ابن ماجہ (2031) والدارمي (2/ 168 ح 2292) [وأخطأ من ضعفہ]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن زَيْنَب بنت كَعْب: أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَہِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْہَا أَنَّہَا جَاءَتْ رَسُولِ اللہِ ﷺ تَسْأَلُہُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَہْلِہَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَہَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَہُ أَبَقُوا فَقَتَلُوہُ قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی أَہْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُہُ وَلَا نَفَقَةٍ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((نَعَمْ)) . فَانْصَرَفْتُ حَتَّی إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي فَقَالَ: ((امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّی يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَہُ)) . قَالَتْ: فَأَعْتَدَدْتُ فِيہِ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا. رَوَاہُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ

زینب بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری ؓ کی بہن فُریعہ بنت مالک بن سنان نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ وہ اپنے قبیلے بنو خدرہ میں اپنے گھر چلی جائے،کیونکہ اس کا شوہر اپنے مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا جسے ان غلاموں نے قتل کر دیا تھا،وہ بیان کرتی ہیں،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں کیونکہ میرے شوہر نے نہ تو اپنا ذاتی گھر چھوڑا ہے اور نہ نفقہ۔وہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘ میں واپس مڑی حتی کہ جب حجرے میں تھی یا مسجد میں تھی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بُلایا اور فرمایا:’’اپنے گھر میں رہو حتی کہ عدت پوری ہو جائے۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں،میں نے وہاں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔اسنادہ صحیح،رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔