Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3333 (مشکوۃ المصابیح)

[3333] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (2305) والنسائي (204/6 ح 3567) ٭ أم حکیم: لا یعرف حالھا و المغیرۃ بن الضحاک: مستور.

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أُمِّ سلمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جعلتُ عليَّ صَبِراً فَقَالَ: ((مَا ہَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟)) . قُلْتُ: إِنَّمَا ہُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيہِ طِيبٌ فَقَالَ: ((إِنَّہُ يَشُبُّ الْوَجْہَ فَلَا تَجْعَلِيہِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزِعِيہِ بِالنَّہَارِ وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّہُ خضاب)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،جب ابوسلمہ ؓ فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوے کا عرق لگایا ہوا تھا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ام سلمہ! یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: یہ تو ایلوے کا عرق ہے! اس میں کوئی خوشبو نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ چہرے کو چمکا دیتا ہے،اسے رات کے وقت لگا لیا کرو اور دن کے وقت صاف کر دیا کرو،خوشبو لگا کر کنگھی بھی نہ کرو اور نہ مہندی لگا کر کنگھی کرو،کیونکہ وہ خضاب ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بیری (کے پتوں) کے ساتھ،تم اپنے سر پر ان کی لیپ کر لیا کرو۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ ابوداؤد و النسائی۔