Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3337 (مشکوۃ المصابیح)

[3337] رواہ مسلم (1441/139)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ فَسَأَلَ عَنْہَا فَقَالُوا: أَمَةٌ لِفُلَانٍ قَالَ: ((أَيُلِمُّ بِہَا؟)) قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَہُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَہُ فِي قَبْرِہِ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُہُ وَہُوَ لَا يَحِلُّ لَہُ؟ أَمْ كَيْفَ يُوَرِّثُہُ وَہُوَ لَا يحلُّ لَہُ؟)) . رَوَاہُ مُسلم

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم،ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو بچہ جننے کے قریب تھی تو آپ نے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کی لونڈی ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے،وہ اس سے کیسے خدمت کا تقاضا کر سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں،یا وہ اسے کیسے وارث بنا سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔‘‘ رواہ مسلم۔