Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3339 (مشکوۃ المصابیح)

[3339] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2158) و الترمذي (1131 وقال: غریب)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم يَوْم حُنَيْنٍ: ((لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يسْقِي مَاء زَرْعَ غَيْرِہِ)) يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَی ((وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّی يَسْتَبْرِئَہَا وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَی يُقَسَّمَ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاہُ التِّرْمِذِيّ إِلَی قَوْلہ ((زرع غَيرہ))

رویفع بن ثابت انصاری ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین کے روز فرمایا:’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو،اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنا پانی کسی اور کی کھیتی کو دے،یعنی حاملہ سے جماع کرے،جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی لونڈی سے جماع کرے حتی کہ اس کا رحم خالی ہو جائے،اور جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ مال غنیمت کو اس کی تقسیم سے پہلے فروخت کرے۔‘‘ ابوداؤد۔اور امام ترمذی نے اسے ((زَرْعَ غَیْرِہ)) تک روایت کیا ہے۔اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد و الترمذی۔