Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3381 (مشکوۃ المصابیح)

[3381] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (2277) والنسائي (185/6 ح 3526 مختصرًا) و الدارمي (170/2 ح2298) و تقدم (3380) والحدیث السابق .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ ہِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًی لِأَہْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي ہُرَيْرَةَ جَاءَتْہُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَہَا ابْنٌ لَہَا وَقَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَادَّعَيَاہُ فَرَطَنَتْ لَہُ تَقُولُ: يَا أَبَا ہُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْہَبَ بِابْنِي. فَقَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ: اسْتہمَا رَطَنَ لَہَا بِذَلِكَ. فَجَاءَ زَوْجُہَا وَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ: اللہُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ ہَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَتَتْہُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْہَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((اسْتَہِمَا عَلَيْہِ)) . فَقَالَ زَوْجُہَا مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ہَذَا أَبُوكَ وَہَذِہِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّہِمَا شِئْتَ)) فَأَخَذَ بيد أمہ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد. وَالنَّسَائِيّ لكنہ ذكر الْمسند. وَرَوَاہُ الدَّارمِيّ عَن ہِلَال بن أُسَامَة

ہلال بن اسامہ اہل مدینہ کے آزاد کردہ غلام ابومیمونہ سلیمان سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا: اس دوران کہ میں ابوہریرہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فارسی (عجمی) عورت،جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی،اپنے بیٹے کو لے کر ابوہریرہ ؓ کے پاس آئی اور وہ دونوں (والد اور والدہ) اس کا دعویٰ کرتے تھے،اس عورت نے ابوہریرہ ؓ سے فارسی میں بات کرتے ہوئے کہا: ابوہریرہ! میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے۔ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: تم دونوں اس کے متعلق قرعہ اندازی کرو۔ابوہریرہ ؓ نے بھی اس کے متعلق اسے فارسی میں بتایا،جب اس کا خاوند آیا تو اس نے کہا: میرے بیٹے کے متعلق کون مجھ سے جھگڑتا ہے؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: اے اللہ! میں یہ فیصلہ اس لیے دے رہا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے،جبکہ وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے اور ابوعنبہ کے کنویں سے پانی لا کر مجھے پلاتا ہے،اور نسائی کی روایت میں ہے: میٹھا پانی۔رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس کے متعلق قرعہ اندازی کرو۔‘‘ تو اس کے خاوند نے کہا: میرے بچے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ تیرا والد ہے اور یہ تیری والدہ ہے،لہذا تم ان میں سے جس کا چاہو ہاتھ پکڑ لو،‘‘ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ابوداؤد،نسائی،لیکن انہوں نے اسے مسند روایت کیا ہے۔اور دارمی نے اسے ہلال بن اسامہ سے روایت کیا ہے۔اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی۔