Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3384 (مشکوۃ المصابیح)
[3384] إسنادہ صحیح، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (4335، نسخۃ محققۃ: 4026 والکبری 272/10۔ 273) وأبوداود الطیالسي (739) و أحمد (299/4وسندہ صحیح) و صححہ ابن حبان (1209) والحاکم (217/2) ووافقہ الذھبي] ٭ فیہ عیسی بن عبد الرحمٰن السلمي ثقۃ، انظر تہذیب الکمال (558/14) وذکر ھذا الحدیث .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن الْبَراء بن عَازِب قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: ((لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفك الرَّقَبَة)) . قَالَ: أَو ليسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ: أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِہَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ: أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِہَا وَالْمِنْحَةَ: الْوَكُوفَ وَالْفَيْءَ عَلَی ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لم تطق فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں،ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا،مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگرچہ تم نے بات مختصر کی ہے لیکن بات بہت اہم دریافت کی ہے۔ذی روح کو آزاد کر،اور گردن کو غلامی سے آزاد کر۔‘‘ اس نے عرض کیا: کیا ان دونوں کا ایک ہی معنی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں،عتق سے مراد ہے کہ تو اکیلا اسے آزاد کرے،جبکہ ’’فک رقبہ‘‘ یہ ہے کہ تو اس کی قیمت ادا کرنے میں معاونت کر،زیادہ دودھ والا جانور بطورِ عطیہ دے اور ظالم رشتہ دار پر مہربانی و احسان کر،اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو پھر بھوکے کو کھانا کھلاؤ،پیاسے کو پانی پلاؤ،نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو۔اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو پھر خیر و بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکو۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔