Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3403 (مشکوۃ المصابیح)

[3403] حسن، رواہ مالک (779/2 ح 1555) ٭ قاسم بن محمد لم یدرک عبادۃ و للحدیث شواھد عند البخاري (2761) و مسلم (1638) و النسائي (3689۔ 3694) وغیرہم بألفاظ أخری غیر ذکر العتیق، ولہ شاھد تقدم (3077)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّہُ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَی أَنْ تُصْبِحَ فَمَاتَتْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُہَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْہَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي ہَلَكَتْ فَہَلْ يَنْفَعُہَا أَنْ أَعْتِقَ عَنْہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((نعم)) . رَوَاہُ مَالك

عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے صبح تک مؤخر کر دیا،سو وہ فوت ہو گئیں،عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں،میں نے قاسم بن محمد سے کہا: اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ قاسم نے کہا: سعد بن عبادہ ؓ،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں،اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘ حسن،رواہ مالک۔