Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3437 (مشکوۃ المصابیح)

[3437] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (3313)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن ثَابت بن الضَّحَّاك قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ہَلْ كَانَ فِيہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاہِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟)) قَالُوا: لَا قَالَ: ((فَہَلْ كَانَ فِيہِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِہِمْ؟)) قَالُوا: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أوف بِنَذْرِك فَإِنَّہُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللہِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (اس کے متعلق) بتایا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا وہاں دور جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید تھی؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،نہیں،تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی معصیت میں نذر پوری کرنا ضروری نہیں اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہیں۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد۔