Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3438 (مشکوۃ المصابیح)

[3438] إسنادہ حسن، رواہ أبو دود (3312) و رزین (لم أجدہ) ٭ و أصلہ عند أبي داود بالاختصار و رواہ أبو داود (3313) قریبًا من لفظ المصنف عن ثابت بن الضحاک رضي اللہ عنہ، انظر الحدیث السابق .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جدہ رَضِي اللہ عَنہُ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَی رَأْسِكَ بِالدُّفِّ قَالَ: ((أَوْفِي بِنَذْرِكِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ رَزِينٌ: قَالَتْ: وَنَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا مَكَانٌ يَذْبَحُ فِيہِ أَہْلُ الْجَاہِلِيَّةِ فَقَالَ: ((ہَلْ كَانَ بِذَلِكِ الْمَكَانِ وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاہِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟)) قَالَتْ: لَا قَالَ: ((ہَلْ كَانَ فِيہِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِہِمْ؟)) قَالَتْ: لَا قَالَ: ((أَوْفِي بِنَذْرِك))

عمر وبن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کی موجودگی میں دف بجاؤں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اپنی نذر پوری کرو۔‘‘ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا،اس (عورت) نے عرض کیا: میں نے فلاں فلاں جگہ جہاں اہل جاہلیت ذبح کرتے تھے،ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا اس جگہ جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی؟‘‘ اس نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا اس جگہ ان کی کوئی عید تھی؟‘‘ اس نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اپنی نذر پوری کرو۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد و رزین۔