Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3443 (مشکوۃ المصابیح)

[3443] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (3272) [و صححہ الحاکم (300/4) ووافقہ الذہبي]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن سعيد بن الْمسيب: أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَہُمَا مِيرَاثٌ فَسَأَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ الْقِسْمَةَ فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ فَكُلُّ مَالِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَكَلِّمْ أَخَاكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((لَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَلَا فِيمَا لَا يملك)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں کے درمیان میراث تھی۔ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے اخراجات کے لیے وقف ہے۔تو عمر ؓ نے اسے فرمایا: کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں،اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے کلام کر،کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:’’رب کی معصیت،قطع رحمی اور اس چیز کے بارے میں جس کا تو مالک نہیں تجھ پر نہ تو کوئی نذر ہے اور نہ قسم۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔