Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3461 (مشکوۃ المصابیح)
[3461] رواہ البخاري (6903) حدیث ابن مسعود تقدم (211)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أبي جُحيفةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللہُ عَنْہُ ہَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَہْمًا يُعْطَی رَجُلٌ فِي كِتَابِہِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ. رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: ((لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا)) فِي ((كتاب الْعلم))
ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے علی ؓ سے دریافت کیا،کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہ ہو؟ انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا! ہمارے پاس صرف وہی کچھ ہے جو قرآن میں ہے،البتہ دین کا وہ فہم ہے جو بندے کو اللہ کی کتاب سے عطا کیا جاتا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں لکھا ہوا ہے (وہ ہمارے پاس ہے)۔میں نے عرض کیا: صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا:’’دیت،قیدی چھڑانے اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے،کے متعلق احکامات۔رواہ البخاری۔اور ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث کہ ’’کسی جان کو ناحق قتل نہ کیا جائے۔‘‘ کتاب العلم میں ذکر کی گئی ہے۔