Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3466 (مشکوۃ المصابیح)

[3466] صحیح، رواہ الترمذي (2158 وقال: حسن) و النسائي (91/7۔ 92 ح 4024) و ابن ماجہ (2533) والدارمي (171/2۔ 172 ح 2302 مختصرًا)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَشْرَفَ يَوْمَ الدَّارِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللہِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَی ثلاثٍ: زِنیً بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ أَوْ قتْلِ نفْسٍ بِغَيْر حق فَقتل بِہِ ؟ فو اللہ مَا زَنَيْتُ فِي جَاہِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَا قَتَلْتُ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللہُ فَبِمَ تَقْتُلُونَنِي؟ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہ وللدارمي لفظ الحَدِيث

ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے ’’یوم الدار‘‘ (جن دنوں باغیوں نے عثمان ؓ کو محصور کر رکھا تھا) لوگوں کو دیکھ کر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا تم اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان سے آگاہ نہیں ہو؟ کہ ’’کسی مسلمان شخص کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ پر درست ہے: شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا یا اسلام کے بعد کفر کرنا یا کسی جان کو ناحق قتل کرنا،اور وہ اس کے باعث قتل کیا جائے گا۔‘‘ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو دورِ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں،میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی اس وقت سے آج تک کبھی مرتد نہیں ہوا،اور میں نے کسی ایسی جان کو قتل نہیں کیا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے،تو پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو؟ ترمذی،نسائی،ابن ماجہ۔اور دارمی میں صرف حدیث کے الفاظ ہیں۔صحیح،رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔