Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3471 (مشکوۃ المصابیح)

[3471] صحیح، رواہ أبو داود (4495) و النسائي (53/8 ح 4836) و البغوي في شرح السنۃ (181/10 ح 2534) [من طریق الشافعي و ھذا فی الأم (95/7)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أبي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ مَعَ أبي فقالَ: ((مَنْ ہَذَا الَّذِي مَعَكَ؟)) قَالَ: ابْنِي أَشْہَدُ بِہِ قَالَ: ((أَمَا إِنَّہُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْہِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي ((شَرْحِ السُّنَّةِ)) فِي أَوَّلِہِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَرَأَی أَبِي الَّذِي بِظَہْرِ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ الَّذِي بِظَہْرِكِ فَإِنِّي طَبِيبٌ. فَقَالَ: ((أَنْتَ رفيقٌ واللہُ الطبيبُ))

ابورِمثہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: میرا بیٹا ہے۔آپ اس کے متعلق گواہ رہیے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’آگاہ رہو! نہ تو تیرے گناہ کا اس سے مؤاخذہ ہو گا نہ اس کے گناہ کا تجھ سے مؤاخذہ ہو گا۔‘‘ اور شرح السنہ میں اس حدیث کے شروع میں مزید الفاظ ہیں: انہوں نے بیان کیا: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت پر جو چیز (مہر نبوت) تھی وہ دیکھ لی تو عرض کیا مجھے اجازت دیں،میں اس چیز کا علاج کرتا ہوں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم رفیق ہو اور اللہ طبیب ہے۔‘‘ صحیح،رواہ ابوداؤد و النسائی و البغوی فی شرح السنہ۔